186

ننگی کمر، سگریٹ اور غیرت بریگیڈ ۔ سید معظم معین

ارے بھائی یہ تو بہت چھوٹا سا منظر تھا جس پر آپ اتنے سیخ پا ہو گئے۔۔۔۔ یہ تو اتنی سی بات تھی۔۔۔ یہ تو کچھ بھی نہیں اس راستے پر تو بہت کچھ لٹانا پڑتا ہے۔۔۔۔ بڑے بڑے نام یونہی نہیں بنتے۔۔۔۔ کیا کسی نام کو کوئی جانتا ہے جس نے اس پیشے میں جسم کی نمائش اور برہنگی کے بغیر نام کمایا ہو۔۔۔ یہ تو کاروبار ہی اس چیز کا ہے بھائی۔۔۔۔۔۔ یہ تو پیشہ ہے اعتراض کس چیز پر ہے۔۔۔
ایک عام سا سگریٹ اور ذرا سی ننگی کمر کیا دیکھ لی آسمان سر پر اٹھا لیا۔ عورت نے سگریٹ پی لیا تو کیا ہو گیا۔۔۔۔ کیا آپ کی جیب سے پیا تھا۔۔۔۔ عورت کا سگریٹ پینا اس طبقے میں کوئی معیوب بات نہیں عین تقاضا ہے پیشے کا۔۔۔۔ سگریٹ تو بہت معمولی اور بے ضرر سی چیز ہے اس ماحول میں تو اور بھی سب چلتا ہے جس کا ذکر بھی آپ کے بڑوں کی محفل میں معیوب سمجھا جائے۔

آپ جن لوگوں کو شرم دلانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اپنی نجی محفلوں میں اس پر ہنسا ہی کرتے ہیں۔ کم لباسی، نامحرم، اسلامی اقدار۔۔۔ یہ سب اس طبقے کے لئے اجنبی الفاظ ہیں وہ تو اس سب سے کب کے بلند ہو چکے۔۔۔۔

ایک دفعہ کسی طواف کی فحاشی اور بداعمالیوں کے خلاف شہر بھر کے مولوی اکٹھے ہو گئے اور فتوے جاری کرنے لگے۔ کسی نے طوائف کو جا کر بتایا تو وہ اور خوش ہوئی۔۔۔۔
بتانے والے نے وجہ پوچھی تو بولی یہ سب تو ہم ساری عمر نہ کر سکتے جو کاروبار ان چند دنوں میں بڑھا۔۔۔۔

عملی طور پر ہم سب سیکولر ہو چکے ہیں۔۔۔ فکری طور پر ہونا باقی ہے۔۔۔ جو نہیں ہیں وہ بھی جلد ہو جائیں گے۔ یہ وہی پردہ ہے جس کے اٹھنے کی نگاہ علامہ اقبال کے دور سے منتظر تھی۔۔۔ انگریزی تہذیب و لباس اور طور اطوار کا شاخسانہ۔۔۔
اب تو یہ منافقت ہمارے روزمرہ کا حصہ بن چکی جسے ہم ہنسی خوشی اپنائے ہوئے ہیں۔۔۔ اب یہی دیکھئے کہ یہ سب کارنامے کرنے کے فورا بعد یہی اداکارائیں محرم میں کالے سوٹ پہن کر اہل بیت سے اظہار تعلق کا اہتمام بھی اسی زور و شور سے کریں گی۔۔۔۔ نبی کی بیٹیوں کی وارث ہونے کا اعلان بھی کریں گی۔۔۔۔ اور محرم گزرنے کے ساتھ ہی پھر وہی رنگ ڈھنگ۔۔۔۔ وہی ڈھاک کے تین پات۔۔۔۔ اب تو یہ منافقت ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی۔۔۔۔ اسے تو ہم نے روٹین سمجھ لیا ہے۔۔۔۔ یہ تو عام سی بات ہے۔۔۔ محرم اور رمضان میں چند دنوں کی رسمیہ مسلمانی اور اس کے بعد وہی سوٹے۔۔۔۔ دین کو انہی رسوم و رواج کا پلندہ سمجھ لیا ہے۔۔۔

یہ سب تو اس طبقے میں عزت کا سامان ہے جسے آپ قابل شرم اور بے غیرتی گردان رہے ہیں۔ آخر کس نے یہ سب نہیں کیا ہے۔ یہ بڑے بڑے نام اونچے اونچے سٹارز یہ سب ان منزلوں سے برسوں گزریں تو منزل پاتے ہیں۔ آپ کہاں پھر رہے ہیں۔

گھروں میں ہم سب خود ان سب کو گھساتے ہیں۔ بڑے بڑے ٹی وی سیٹ اور سکرینیں۔۔۔۔ ان پر پے در پے آنے والے شوز۔۔۔۔ ان میں ہوتا ہی کیا ہے؟ فلمی ایکٹروں اور ایکٹرسوں کو زبردستی سٹار بنا کر پیش کرنے کے علاوہ۔۔۔۔مزاحیہ شو ہو یا سنجیدہ۔۔۔ مارننگ شو ہو یا ایوننگ۔۔۔۔ ہر جگہ یہی ستارے جگمگا رہے ہیں اور انہیں ہی ہیرو ہیروئن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔۔۔ کب کسی نے کسی سائنسدان کو، کسی ریسرچر، مصنف، مفکر، یا کسی پوزیشن ہولڈر کو سٹار بنا کر پیش کیا ہے۔۔۔ میڈیا تو وہ دکھاتا اور سناتا ہے جو بکتا ہے۔ یہ ہم ہی ہیں جو یہ سب خریدتے ہیں۔ ہم خود ننگی کمر، عریاں شانوں اور برہنہ ناف کو گھر میں گھسائے بیٹھے ہیں۔۔۔۔ اور پھر اگر توقع رکھتے ہیں کہ ہماری نئی نسل اس کو معیوب سمجھے گی۔۔۔ تو معاف کیجئے گا آپ بے وقوفی کی حد تک سادہ ہیں۔۔۔۔تو اب ہم کو اتنی غیرت کا مظاہرہ زیب نہیں دیتا۔ یہ قول و فعل کا تضاد ہے۔۔۔ کھلا تضاد۔۔۔۔ تناقص ہے۔۔۔۔ منافقت ہے۔۔۔۔ ذرا سا انتظار کریں ابھی آپ کی اپنی بچیاں بھی یہ سب کریں گی جس پر آپ تلملا رہے ہیں یا انگشت بدنداں ہیں۔۔۔۔ کیونکہ یہ سب آپ خود تو لا کر دے رہے ہیں انہیں۔۔۔۔ بقول اقبال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں