124

اب ہیرے سےبھی بجلی بنانا ممکن

ہیرے سے بجلی بنانے کا طریقہ؛

دنیا بھر میں توانائی پیدا کرنے کے لیے کم قیمت اور آسان ذرائع کی طرف توجہ دی جارہی ہے. مگرآپ کو یہ جان کر بہت حیرت ہوگی کہ ہیرا بھی بجلی بنانے کے کام آ سکتا ہے، اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بجلی بنانے والا ہیرا آسانی سےفیکٹریوں میں بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔لندن کے شہر برسٹول کی ایک یونیورسٹی کے طلبا ایک تجربے پر کام کر رہے ہیں جس میں ہیرے کے ذریعے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ ہیرے سے بنائی گئی یہ بیٹریاں ہزاروں سال تک بجلی فراہم کرسکتی ہیں۔اس ہیرے کو جوہری فضلے سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
یعنی دنیا بھر میں موجود جوہری بجلی گھروں یا جوہری تجربہ گاہوں میں استعمال شدہ کاربن اور تابکار شعاوں کو ملایا جائے تو باآسانی یہ ہیرا بنایا جاسکتا ہے۔

ہیرے سے بنائی جانے والی بیٹری؛

ایٹمی گھروں میں موجود گریفائٹ کے ذروں سے بہت زیادہ ٹھوس کاربن حاصل کیا جاسکتا ہے۔جب زمین کے اندر موجود کاربن حد سے زیادہ گرم ہوجائے تو وہ ہیرے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی عمل استعمال میں لایا جاتا ہے.
ہیرے کو بنانے کے بعد جب اسے دوبارہ کاربن سے ملایا جائے گا تو دونوں اشیا مل کر بجلی پیدا کریں گی۔اس ہیرے سے بنائی جانے والی بیٹریوں سے نکلنے والی تابکار شعاعوں سے بچنے کے لیے اس کے اوپر ہیرے کی ایک اور تہہ چڑھا دی جاتی ہے۔ یہ تہہ بھی کاربن ہی سے بنائی جاتی ہے۔ہیرے کے اوپر ہیرا چڑھانے سے اس بیٹری کی بجلی بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے

بیٹریوں کو سیٹلائٹس پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے؛

اس بیٹری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہیرا کسی بھی قسم کا اخراج نہیں کرتا نہ ہی اسے پھینکنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔بیٹری کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیٹری سیٹلائٹس بنانے میں بھی استعمال ہوسکتی ہے جہاں یہ بغیر کسی رکاوٹ کے ہر وقت بجلی دے گی۔

Breaking news,Latest news,News today,World news,Urdu Pakistan,Electricity,Diamonds

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں