19

ملکہ ترنم نور جہاں کو بچھڑے آج سترہ برس گزر گئے۔

ملکہ ترنم نور جہاں کا اصل نام ؛

معروف گلو کارہ ملکہ ترنم نور جہاں کی آج 17ویں برسی ہے۔برصغیر کی نامورگلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کو ہم سے بچھڑے 17سال گزر گئے ہیں مگر وہ اپنے صدا بہار گیتوں کی وجہ آج بھی ہمارے دلوں میں موجود ہیں۔ملکہ ترنم 21 ستمبر 1926 کو ضلع قصور میں پیدا ہوئیں،ان کا اصل نام اللہ وسائی تھا جبکہ نور جہاں ان کا فلمی نام تھا۔انہوں نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 1935 میں پنجابی زبان میں بننے والی پہلی فلم ’شیلا عرف پنڈ دی کڑی‘سے کیا۔جسمیں انھوں نے بطور چائلڈ سٹار کردار ادا کیا۔اس فلم مین انکا نام نور جہاں تھا

نورجہاں کی شادی؛

بے بی نورجہاں نے چھوٹی سی عمر میں ہی بہت سی فلموں میں کام کیا۔ جن میں ’گل بکاﺅلی‘، ’سسی پنوں‘اور’ہیرسیال‘شامل ہیں‘۔معروف موسیقار غلام حیدر نے1941میں ملکہ ترنم کو اپنی فلم ’خزانچی‘ میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا اور اسی سال بمبئی میں بننے والی فلم ’خاندان‘ ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ فلم خاندان کی تیاری کے دوران ہی ہدایت کار شوکت حسین رضوی سےان کی شادی ہوگئی،اور پھر پاکستان بننے کے بعد وہ اپنے شوہر شوکت حسین رضوی کے ہمراہ بمبئی سے کراچی منتقل ہوگئیں۔انہوں نےبطوراداکارہ بھی بہت سی فلموں میں کام کیا۔ جن میں گلنار،چن وے، دوپٹہ، پاٹے خان، لخت جگر، انتظار،نیند، کوئل، چھومنتر، انار کلی اور مرزا غالب شامل ہیں۔

جنگ1965کے دوران ملکہ نورجہاں کا کردار؛

ملکہ ترنم نورجہاں نے 1965ءکی جنگ میں اے وطن کے سجیلے جوانوں، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو،، اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے گاکرپاک فوج کے جوش وجذبے میں بے پناہ اضافہ کیا۔انہیں شاندار پرفارمنس کے وجہ سے تمغہ امتیاز اور اس کے بعد پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔میڈم نور جہاں نےتقریباََ10 ہزار سے زائد غزلیں و گیت گائے جن میں سے زیادہ تر اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ملکہ ترنم نور جہاں 23 دسمبر 2000 کو 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ آج وہ ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی عوام میں بےپناہ مقبول ہیں۔

Latest news,News today,News urdu,Urdu news,Showbiz News,Noor Jehan,Malika Taranum

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں