58

پودے بھی اب روشن ہوں گے۔۔

ایم آئی ٹی کے ماہرین نے روشنی والا پودا تیار کر لیا؛

مستقبل میں ہم رات کی روشنی بجلی کے کھمبوں پر لگے بلب کی بجائے درختوں سے حاصل کرسکیں گے؟ جی ہاں! سائنس دانوں نے درختوں کے پتوں سے روشنی حاصل کرنے کا ایک کامیاب تجربہ کیا ہے۔ایم آئی ٹی کے ماہرین کے تجربے کے مطابق درختوں کے پتوں سے روشنی کا حصول ممکن ہوگیا ہے، مستقبل میں سڑکیں حیاتیاتی روشنی خارج کرنے والے پودوں سے روشن کی جائیں گی اور اس کے لیے ایم آئی ٹی کے سائنس دانوں نے ایک قسم کی سلاد یعنی واٹر کریس کے پتے میں نینو ذرات داخل کیے تو وہ چار گھنٹے تک دھیمی روشنی خارج کرتا رہا۔اس کیمیکل سے پودوں میں خارج ہونے والی روشنی اتنی کافی ہوتی ہے کہ آپ اس کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ سکتے ہیں،

پودابغیرکسی تارکےروشنی دےگا؛

ایم آئی ٹی کے ماہرین نے ایک اینزائم لیوسی فریس سے پودوں کو روشن کیا – جس میں لیوسی فرین مالیکیول چمک کی اہم وجہ ہے- اس اینزائم کو نینو ذرات میں بھرا ہے جس سے پودے دمکنے لگتے ہیں، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نینو ذرات روشنی والے اینزائم ہر مناسب جگہ پہنچ جاتے ہیں-جب سلادِ آبی میں روشنی دینے والے کیمیکل کے نینوذرات شامل کی- تو وہ پودا ایک طرح ٹیبل لیمپ بن گیا اور بہت اچھی روشنی خارج کرنے لگا، ماہرین کے مطابق اسے مزید بہتر کرکے درختوں کو اس قدر روشن بنایا جاسکتا ہے کہ اسٹریٹ لائٹس کی ضرورت نہیں رہے گی اور اس قدرتی لیمپ کے لیے بجلی کے کسی تار کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اولین پودا 45 منٹ تک روشن رہا؛

اس کارنامے کا سہرا ایم آئی ٹی کے پروفیسر آف کیمیکل انجنیئرنگ مائیکل اسٹرینو کے سر ہے جو کہتے ہیں کہ اب پودے کے اندر کا قدرتی نظام ہی روشنی بنائے گا اس سے روشنی دینے والے کھمبوں کی ضرورت نہ رہے گی-اولین پودا 45 منٹ تک روشن رہا اور اس کی روشنی بہتر کرکے اسے ساڑھے 3 گھنٹے تک بڑھایا گیا۔دس سینٹی میٹر پودے کی روشنی میں ایک کتاب پڑھی جاسکتی ہے، ماہرین کے مطابق پودے کو مزید بہتر بناکر گھنٹوں روشنی دینے کے قابل بنایا جاسکتا ہے، اب ماہرین پودے پر نینو ذرات اسپرے کرنے کے آسان طریقے پر بھی کام کررہے ہیں۔

Latest news,News urdu,World news,Urdu Pakistan,Urdu news,Technology News,Bright Trees

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں