98

بھارتی سرکار نے سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔

سرینگر میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد؛

اس ہفتے جاری ہونے والے نئے آرڈر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سرکاری ملازمین اب سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرسکیں گے۔آرڈر کے مطابق ملازمین کو کسی بھی قسم کی مجرمانہ، اور شرمناک پوسٹ کرنے سے روکا گیا ہے۔اس کے علاوہ پورے ضلع میں سرکاری ملازمین کو سیاسی معاملات میں مداکلت اور حکومت پربے جا تنقید سے بھی روکا گیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں خبردار ہیں اور کسی بھی قسم کا حکومت مخالف مواد ملنے کی صورت میں کارروائی عمل میں لائیں گی۔

حریت رہنما یاسین ملک کا خطاب؛

اس کے علاوہ ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرپرست عبد القیوم وانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کا یہ مطالبہ ہے کہ آزادی اظہار رائے پر لگائی گئی قدغن کو فوری دور کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس معاملہ پر عدالت سے بھی جلد رجوع کیا جائے گا۔حریت رہنما یاسین ملک کا بھی اس حوالے سے کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کی پابندی دنیا کی بدترین آمریت سے مشابہ ہے۔

سوشل میڈیا پر عائد پابندی کو ہٹایا جائے؛

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹرعمر فاروق نے بھارت سرکار کی جانب سے سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے حکم کو حد درجہ آمرانہ قرار دیا اور کہا کہ سرکاری ملازم جو کہ سماج کا پڑھا لکھا طبقہ ہے اسی کے اظہارے رائے پر سرکار بوکھلاہٹ کا سامنا کررہی ہے-میرواعظ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمہوریت کے دعوے کرنے والی حکومت نے پہلے ہی کشمیر میں فوجی طاقت کے بل پر عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے آواز بلند کرنے اور حتجاج کرنے کے حق سے محروم کررکھا ہے جب بھی لوگ اپنے حقوق اور مطالبات کے لئے احتجاج کرتے ہیں تو انہیں قدوبند گولیوں اور پلٹ گنوں کے ذریعے خاموش کردیا جاتا ہے

Latest news,News today,News update,Social Media News,World news,Social Media Banned,India

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں