32

موبائل بنانے والی کمپنیاں ایپل اور ایمازون سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے لگی ہیں۔

ایپل اور ایمازون کی سعودیہ میں سرمایہ کاری؛

موبائل فون بنانے والی دو معروف کمپنیاں ایپل اور ایمازون بھی سعودی عرب میں کاروبار کرنے کی خواہشمند ہیں۔سعودی حکومت کی جانب سے 2030 وژن کےمطابق ملک میں کئی نئی تبدیلیاں آئیں۔اب خواتین گاڑی چلا سکتی ہیں۔اور لڑکیاں موبائل فون استعمال کرسکتی ہیں اور ان کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں شامل ہیں۔موبائل فون بنانے والی دو بڑی کمپنیوں ایپل اور ایمازون نے ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ریاض سمیت مختلف علاقوں میں اپنی فرنچائزز کھولنے خواہش کا ظاہر کی ہے۔سعودی اخبار کے مطابق ایپل کمپنی کے انتظامیہ سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے سعودی حکومت سے بات چیت میں مصروف ہیں جبکہ ایمازون نے بھی معاملات طے کرلیے ہیں۔

تیل کی پیداوار میں کمی؛

اس سے پہلےسعودی عرب میں دونوں کمپنیاں تھرڈ پارٹی کی وساطت سے موبائل فون فروخت کررہی تھیں مگر اب دونوں براہ راست سرمایہ کرنا چاہتی ہیں۔سعودی ولی عہد نے تیل کی پیداوار میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ 2 سالوں کے دوران ایسی کاروباری پالیسیاں تشکیل دی ہیں کہ اب غیر ملکی کمپنیاں بھی سرمایہ کاری کرنے میں دلچپسی ظاہر کررہیں ہیں۔اطلاع کے مطابق اگلے سال فروری تک دونوں کمپنیوں کا سعودی حکومت سے معاہدہ طے پائے گا جس کے بعد ایپل اور ایما زون براہ راست سعودی عرب میں کاروبار کرسکیں گی۔

طالبات کویونیورسٹیوں میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت؛

اس سال سعودی حکومت نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے بعد طالبات کو یونیورسٹیوں میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔سعودی دارالحکومت ریاض کے نزدیک ایک تفریحی شہر بنایا جائے گا۔جن میں گالف کورسزاور سنیما گھربھی تعمیرکئےجا ئیں گے۔اس سال سعودی عرب سے سنیما انڈسٹری کی بحالی کے ساتھ عشروں پر محیط ثقافتی جمود ٹوٹنے کی خبریں آئی تھیں اور سعودی ثقافت اور فنون ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلطان البازی نے اسے بدلتی ہوئی سماجی تبدلیوں کا نتیجہ قرار دیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں