91

بھارت میں بیک وقت 3 طلاقیں دینا غیر قانونی قرار

تین طلاقیں دیناغیرقانونی؛

بھارتی سپریم کورٹ نے شوہر کی جانب سے بیوی کو بیک وقت 3 طلاقیں دینے کا عمل غیر قانونی قرار دے دیا جس کے بعد بھارتی قانون کے تحت طلاق دینے کا یہ عمل غیر مؤثر قرار پا جائے گا-اپنے تاریخی فیصلے میں بھارتی اعلیٰ عدلیہ کا کہنا تھا کہ بیک وقت 3 طلاق دینا عورت کے بنیادی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ خطرناک عمل ایک لمحے میں شادی کا خاتمہ کردیتا ہے۔بیوی کو بیک وقت 3 طلاقیں دینے کا عمل مسلمانوں میں عام ہے اور بظاہر بنیادی قوانین کے تحت اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، تاہم بعض فقہوں نے طویل غور و حوض کے بعد اس میں تبدیلی کر کے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

مسلمان خاتون نے درخواست دائرکی؛

بھارتی سپریم کورٹ میں 5 رکنی بینچ کے 3 ججز نے 3 طلاقوں کو غیر مؤثر قرار دینے کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ 2 ججز نے اسے برقرار رکھنے کی اختلافی رائے دی جس کے بعد 2-3 کی اکثریت سے حتمی فیصلہ جاری کردیا گیا۔بھارتی سپریم کورٹ میں مسلمانوں میں رائج اس عام طرز عمل کے خلاف یہ درخواست ایک 35 سالہ مسلمان خاتون نے دائر کی جن کے شوہر نے انہیں 15 سالہ شادی کے بعد بیک وقت 3 طلاقیں دے کر شادی کا اختتام کردیا۔مذکورہ خاتون کی درخواست کے ساتھ 4 مزید خواتین کی درخواستیں بھی منسلک کی گئیں جو اسی سے متعلق تھیں۔

آل انڈیا مسلم لا بورڈ؛

درخواست دائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ایک آئینی بینچ بنانے کا حکم دیا تھا جسے مسلمانوں کے عام طرز عمل زبانی 3 طلاقوں کے بارے میں غور و حوض کرنے کی ہدایت کی گئی کہ آیا اسے آئینی طور پر درست تسلیم کیا جائے یا نہیں۔مئی کی 18 تاریخ کو 6 دن تک لگاتار سماعتوں کے بعد اس کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھابینچ نے آل انڈیا مسلم لا بورڈ سے بھی اس بارے میں مشاورت کی جس کے دوران مسلم لا بورڈ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ عمل بدترین ضرور ہے تاہم مذہبی اور شرعی طور پر درست ہے۔

Latest news,News today,World news,Urdu Pakistan,Urdu news,India,Tripple Talaq Bill

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں