25

سپریم کورٹ ماڈل ٹاؤن پر سوموٹو لے، غیرجانب دار کمیشن بنایا جائے: اے پی سی کا اعلامیہ

شہبازشریف اور راناثنااللہ 7 جنوری تک مستعفی ہوں
سانحہ ماڈل ٹاؤن ریاستی دہشت گردی کا بدترین واقعہ ہے، اے پی سی سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ختم نبوت قانون میں تبدیلی کی مذمت کرتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار شاہ محمود قریشی اور قمر زماں کائرہ نے لاہور میں منعقد اے پی سی کے اختتام پر جاری ہونے والا دس نکاتی اعلامیہ پڑھتے ہوئے کیا۔
ابتدائی پانچ نکات شاہ محمود قریشی نے پڑھے، انھوں نے کہا کہ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرکے آئین پر حملہ کیا گیا اس کے ماسٹر مائنڈ کو تاحال سامنے نہیں لایا گیا۔ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کے بعد ن لیگ حکومت کا جواز کھو بیٹھی ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ شریف خاندان کوکوئی این آراو اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کےمتاثرین کیلئےجدوجہد کرنا سب کی ذمے داری ہے۔ اعلامیہ میں سپریم کورٹ سے سانحہ ماڈل ٹائون پر سوموٹو ایکشن لے کر غیرجانب دار کمیشن کی تشکیل دے۔
یاد رہے کہ پی اے ٹی نے استعفوں سےمتعلق 31 دسمبرکی ڈیڈلائن دی تھی، اے پی سی مین ڈیڈلائن میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے،اے پی سی میں مشترکہ طورپر7 جنوری کی ڈیڈلائن طےکی گئی ہے۔
اے پی سی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اعلامیہ کے مطابق اسٹیئرنگ کمیٹی کا اعلان کیا گیا، جس میں تمام جماعتوں کے رہنما شامل ہوں گے۔
باقی پانچ نکات پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زماں کائرہ نے پڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجفی کمیشن نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہبازشریف راناثاللہ کو ذمے دار ٹھہرایا، اے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ شہبازشریف راناثنااللہ 7 جنوری تک مستعفی ہوجائیں۔
اعلامیہ کے بعد طاہر القادری نے کہا کہ آئین اورقانون کے مطابق آئندہ لائحہ عمل طےکریں گے، احتجاج ہوگا، دھرنا ہوگا اور ن لیگ کےاقتدارکو مرنا ہوگا۔
طاہر القادری نے اے پی سی میں شامل تمام پارٹیوں میں کسی بھی قسم کے اختلاف کی مکمل طور پر رد کر دیا۔
واضح رہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام لاہور میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں 40 سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتیں شریک ہوئی تھیں۔
طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ریزولوشن ڈرافٹ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، کمیٹی میں تمام جماعتوں کےممبران شامل تھے۔
آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم ، پاک سرزمین پارٹی، جماعت اسلامی، مجلس وحدت المسلمین سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے نمائندے جبکہ وکلا، قانونی ماہرین، سماجی رہنما اور اقلیتی رہنما بھی شریک ہیں۔
کانفرنس کے آغاز پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے خطاب میں تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں