88

انکوائری ہوئی تو مزید اثاثے سامنے آئیں گے، وکلا کا جہانگیر ترین کو مشورہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کے دلائل کو لفظی ’’شعبدہ بازی‘‘، مضحکہ خیز اور افسوس ناک تھے، عدالت نے ان کی جانب سے اپنے غیر اعلانیہ آف شور اثاثے ( برطانوی علاقے نیو بری میں قائم 70؍ لاکھ پائونڈ کے گھر جسے ’’ہائیڈ ہائوس‘‘ کہا جاتا ہے) کے حوالے سے دفاع میں پیش کردہ دلائل اور موقف قبول نہیں کیا۔
عمران خان اور جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ان کو ٹرسٹ کی ’’تکنیکی تشریح‘‘ کی بنیاد پر نا اہل قرار دیا گیا لیکن اس کے برعکس عدالت نے جہانگیر ترین کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں غلط بیانی پر نا اہل قرار دیا اور قرار دیا کہ جہانگیر ترین ہائیڈ ہاؤس کے اصل اور حقیقی بینیفیشل اونرہیں۔
برطانیہ میں قائم لاکھوں کروڑو ں روپے کے اس گھر کو چھپائے رکھا گیا اور اسے ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ وہی گھر ہے جہاں سپریم کورٹ سے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین اپنے لندن دورے کے دوران آدھے سے زیادہ عرصہ گزارا۔
جہانگیر ترین نے لندن میں وکلاء اور عمران خان کے مشیر ذُلفی بخاری سے ملاقات کی لیکن وکلا نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ گھر کی ٹرسٹ ڈیڈ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس گھر کے وہ اصل مالک ہیں، نہ کہ ان کے بچے، یہ ان کا چھپایا ہوا گھر تھا جسے شائنی ویو لمیٹڈ آف شور کمپنی کے ذریعے خریدا گیا تھا اور اس کے بعد ٹرسٹ میں شامل کرکے اسے پاکستانی حکام سے چھپایا گیا۔
ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برطانوی وکلا نے جہانگیر ترین کو بتایا ہے کہ عدالت ان سے ٹرسٹ کے سوئس اکاؤنٹس اور بینکوں کے ساتھ تعلق کے سوالات پوچھ سکتی ہے جن کے حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں کیونکہ ٹرسٹ ڈیڈ پر جنیوا میں دستخط کرکے اسے فعال بنایا گیا تھا۔
جہانگیر ترین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر کسی انکوائری کا حکم دیا گیا تو انہیں مکمل معلومات افشا کرنا ہوں گی جس کے نتیجے میں مزید اثاثے اور اکائونٹس سامنے آسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں